نیکی کا سفر
Schedule
Fri, 07 Aug, 2026 at 12:00 pm
UTC+05:00Location
Pindora, Rawalpindi, Pakistan | Islamabad, IS
Advertisement
*19ویں تراویح میں پڑھی جانے والی منزل* ۔ادارہ نور حق قطبال ٹاؤن کھنہ ایسٹ اسلام آباد ۔
*جمع وترتیب مولانا قاری عبدالرحمن حفظہ اللہ*
سورۃالروم مکمل۔
سورۃ لقمان۔
سورۃ السجدہ مکمل۔
🌹 سورۃ الاحزاب آیت 1 تا 30 کے مضامین شامل ہیں
سورہ الروم قرآن کریم کی 30ویں سورت ہے جو 21ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت اپنی عظیم الشان پیشین گوئی، کائناتی نشانیوں اور انسانی فطرت کے بیان کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔
1. بنیادی تعارف
* مقامِ نزول: مکی (نبوت کے پانچویں یا چھٹے سال نازل ہوئی)۔
* آیات کی تعداد: 60
* رکوع: 6
* وجہ تسمیہ: اس سورت کا آغاز سلطنتِ روم (Byzantine Empire) کی شکست اور پھر دوبارہ فتح کی خبر سے ہوتا ہے، اسی لیے اسے "الروم" کہا جاتا ہے۔
2. شانِ نزول اور تاریخی پس منظر
جس وقت یہ سورت نازل ہوئی، دنیا کی دو بڑی طاقتیں (سلطنتِ روم اور سلطنتِ فارس) آپس میں برسرِ پیکار تھیں۔
* رومی: عیسائی تھے اور اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قریب تھے۔
* فارسی: پارسی (آتش پرست) تھے، جنہیں مکہ کے مشرکین اپنا ہم عقیدہ سمجھتے تھے۔
جب فارس نے رومیوں کو بدترین شکست دی، تو مشرکینِ مکہ خوش ہوئے کہ جس طرح فارسیوں نے اہل کتاب (رومیوں) کو ہرایا، ہم بھی مسلمانوں کو ہرا دیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ رومی مغلوب تو ہوئے ہیں لیکن چند ہی سالوں میں (بضع سنین) وہ دوبارہ غالب آ جائیں گے۔ یہ پیشین گوئی چند سالوں بعد حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔
3. تفصیلی مطالعہ اور مکمل مضامین
الف) غیبی خبر اور اللہ کا وعدہ (آیت 1 تا 6)
سورت کا آغاز ایک چیلنج سے ہوتا ہے کہ رومیوں کی شکست عارضی ہے اور عنقریب وہ فتح حاصل کریں گے جس سے مومنوں کو بھی خوشی ہوگی۔ یہ آیت قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
ب) کائنات کی نشانیاں اور توحید (آیت 7 تا 27)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی قدرت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے:
* تخلیقِ انسانی: تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم بشر بن کر پھیل گئے۔
* ازواجی زندگی: تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کی۔
* اختلافِ رنگ و زبان: زبانوں اور رنگوں کا فرق اللہ کی کاریگری ہے۔
* نیند اور رزق: رات کو تمہارا سونا اور دن میں اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرنا۔
ج) فطرتِ اسلام (آیت 30)
اس سورت کی ایک مشہور آیت "آیتِ فطرت" ہے، جس میں بتایا گیا کہ اللہ نے انسان کو دینِ فطرت (اسلام) پر پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان کا ضمیر فطرتی طور پر سچائی اور اپنے خالق کی طرف مائل ہوتا ہے، یہ خارجی حالات ہیں جو اسے بدل دیتے ہیں۔
د) معاشی نظام: سود بمقابلہ زکوٰۃ (آیت 39)
یہاں ایک اہم معاشی نکتہ بیان کیا گیا:
* سود: جو تم سود پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھ جائے، وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔
* زکوٰۃ: وہ مال جو تم اللہ کی خوشنودی کے لیے زکوٰۃ میں دیتے ہو، وہی اصل میں اللہ کے ہاں کئی گنا بڑھتا ہے۔
ھ) خشکی اور تری میں فساد (آیت 41)
> "خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ان کاموں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کیے..."
> یہ آیت بتاتی ہے کہ دنیا میں جو بھی بگاڑ، قحط، وبائیں یا جنگیں آتی ہیں، وہ انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
>
4. خلاصہ اور آخری پیغام
سورت کا اختتام صبر کی تلقین پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ صبر کریں، اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ بے یقین لوگ آپ کو ہرگز ہلکا (بے صبرا) نہ پائیں۔
🌹سورہ لقمان قرآن کریم کی 31ویں سورت ہے جو 21ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت اپنی دانش و حکمت، تربیتِ اولاد کے سنہری اصولوں اور توحید کے دلائل کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔
1. بنیادی تعارف
* مقامِ نزول: مکی سورت۔
* آیات کی تعداد: 34
* رکوع: 4
* وجہ تسمیہ: اس سورت میں اللہ کے ایک نیک اور صاحبِ حکمت بندے "حضرت لقمان" کا ذکر اور ان کی اپنے بیٹے کو دی گئی نصیحتیں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں، اسی مناسبت سے اس کا نام سورہ لقمان رکھا گیا۔
2. شانِ نزول
مشرکینِ مکہ قرآن کے مقابلے میں قصے کہانیاں اور لہو و لعب (جیسے گانے بجانے کے قصے) لایا کرتے تھے تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک سکیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور بتایا کہ اصل دانش مندی ان قصوں میں نہیں بلکہ اس "حکمت" میں ہے جو اللہ نے حضرت لقمان کو عطا فرمائی تھی۔
3. تفصیلی مطالعہ اور مکمل مضامین
سورہ لقمان کے مضامین کو تین اہم حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
الف) حکیم لقمان کی نصیحتیں (تربیتِ اولاد کا نصاب)
یہ اس سورت کا سب سے اہم حصہ ہے جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کو زندگی گزارنے کے اصول سکھا رہا ہے:
* توحید: "اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
* والدین کا حق: اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین (خصوصاً ماں کی تکلیفوں کا ذکر) کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا۔
* حسابِ الٰہی کا خوف: اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور کسی چٹان یا آسمان و زمین میں چھپا ہو، اللہ اسے سامنے لے آئے گا۔
* عملی زندگی: نماز قائم کرنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
* صبر: تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
* اخلاقیات: لوگوں سے منہ پھیر کر (تکبر سے) بات نہ کرنا، زمین پر اکڑ کر نہ چلنا، اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنا اور اپنی آواز کو پست رکھنا۔
ب) توحید اور قدرتِ خداوندی کے دلائل
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں:
* آسمانوں کو بغیر ستونوں کے کھڑا کرنا۔
* زمین میں پہاڑ گاڑنا تاکہ وہ تمہیں لے کر نہ ڈولے۔
* بارش برسانا اور زمین سے نباتات اگانا۔
* سمندروں کا نظام: اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سات سمندر سیاہی، تب بھی اللہ کی باتیں (صفات و کلمات) ختم نہیں ہو سکتیں۔
ج) غیب کی پانچ باتیں (مفاتیح الغیب)
سورت کا اختتام ان پانچ باتوں پر ہوتا ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے:
* قیامت کا وقت: کہ وہ کب آئے گی۔
* بارش کا نزول: کہ کب اور کہاں برسے گی۔
* رحمِ مادر: کہ ماں کے پیٹ میں کیا (کس حال میں) ہے۔
* مستقبل کا علم: کہ انسان کل کیا کمائے گا (کیا کرے گا)۔
* مقامِ موت: کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔
4. خلاصہ اور پیغام
سورہ لقمان کا مرکزی پیغام "حکمت" ہے۔ یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی دانش مندی اللہ کو ایک ماننے، والدین کی خدمت کرنے اور اپنے اخلاق کو بہتر بنانے میں ہے۔ یہ والدین کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت میں عقائد اور اخلاقیات کو ترجیح دیں۔
🌹سورہ السجدہ قرآن کریم کی 32ویں سورت ہے جو 21ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت مکہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب مشرکینِ مکہ اللہ کی توحید اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا مذاق اڑاتے تھے۔
1. بنیادی تعارف
* مقامِ نزول: مکی سورت۔
* آیات کی تعداد: 30
* رکوع: 3
* سجدہ تلاوت: اس سورت کی آیت نمبر 15 پر ایک سجدہ واجب ہے، اسی رعایت سے اس کا نام "السجدہ" رکھا گیا ہے۔
* فضیلت: احادیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ عشاء کے بعد سونے سے پہلے اس سورت کی تلاوت فرماتے تھے، اور جمعہ کے دن نمازِ فجر کی پہلی رکعت میں اکثر اس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
2. شانِ نزول اور مرکزی موضوع
اس سورت کا بنیادی مقصد انسانوں کے دلوں سے آخرت اور اللہ کی ملاقات کے بارے میں شکوک و شبہات نکالنا ہے۔ کفار کہتے تھے کہ "جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے؟" یہ سورت اسی ہٹ دھرمی کا جواب دلائل کے ساتھ دیتی ہے۔
3. تفصیلی مطالعہ اور مکمل مضامین
سورہ السجدہ کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
الف) تخلیقِ کائنات اور انسانی تخلیق (آیت 1 تا 9)
اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے ثبوت کے طور پر کائناتی نظام کا ذکر فرمایا:
* تخلیقِ کائنات: جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر مستوی ہوا۔
* انسانی تخلیق: انسان کی تخلیق کے مراحل کا ذکر کیا کہ پہلے اسے مٹی سے بنایا، پھر اس کی نسل کو حقیر پانی (نطفہ) سے چلایا، اور پھر اس میں اپنی روح پھونکی اور اسے سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کیں۔
ب) موت کا فرشتہ اور آخرت کا منظر (آیت 10 تا 14)
* ملک الموت: اللہ نے فرمایا کہ "تمہاری جان وہ فرشتہ نکالتا ہے جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔"
* مجرموں کا پچھتاوا: اس دن مجرم اللہ کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے کہ "اے رب! اب ہم نے سب دیکھ لیا اور سن لیا، ہمیں واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں"۔ مگر اس وقت مہلت ختم ہو چکی ہوگی۔
ج) مومنین کی صفات اور جزا (آیت 15 تا 22)
اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے بندوں کا نقشہ کھینچا ہے:
* عاجزی: جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔
* تہجد گزاری: ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (یعنی وہ راتوں کو اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں) اور اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔
* پوشیدہ انعام: اللہ فرماتا ہے کہ ان کے اعمال کے بدلے ان کے لیے جنت میں ایسی نعمتیں چھپا رکھی ہیں جن کا کسی نفس کو تصور تک نہیں۔
د) بنی اسرائیل اور انجامِ کفر (آیت 23 تا 30)
* حضرت موسیٰ (ع): اللہ نے ذکر کیا کہ جس طرح ہم نے آپ ﷺ پر یہ کتاب اتاری، اسی طرح موسیٰ (ع) کو بھی کتاب دی تھی۔
* آزمائش: دنیا کی تکلیفیں (چھوٹا عذاب) اس لیے آتی ہیں تاکہ لوگ بڑے عذاب سے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کر لیں۔
4. خلاصہ اور پیغام
سورہ السجدہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جس رب کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، وہی کائنات کا خالق ہے اور ایک دن ہمیں اس کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ یہ سورت ہمیں غفلت کی نیند سے جگا کر آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرتی ہے۔
🌹سورہ الاحزاب قرآن کریم کی 33ویں سورت ہے جو 21ویں اور 22ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت مدنی ہے اور اس میں اسلامی معاشرے کی تنظیم، غزوات، اور نبی کریم ﷺ کے خانگی و سماجی مقام کے حوالے سے اہم احکامات موجود ہیں۔
آپ کی مطلوبہ آیت نمبر 1 سے 30 تک کے حصے میں درج ذیل اہم مضامین بیان کیے گئے ہیں:
1. تقویٰ اور اللہ پر توکل (آیات 1-3)
سورت کا آغاز نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے ہوتا ہے، لیکن اس کا پیغام پوری امت کے لیے ہے:
* اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں و منافقوں کی باتوں میں نہ آنا۔
* وحی کی پیروی کرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا، کیونکہ اللہ ہی بہترین کارساز ہے۔
2. جاہلانہ رسموں کا خاتمہ (آیات 4-5)
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دو اہم معاشرتی رسموں کو ختم فرمایا:
* ظہار کی نفی: یہ کہنا کہ "بیوی کی پیٹھ میری ماں کی طرح ہے" (ظہار)، اس سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔
* لے پالک (گود لیے ہوئے بیٹے): اللہ نے واضح کیا کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا۔ انہیں ان کے اصل باپوں کے نام سے پکارنا ہی انصاف ہے۔
3. نبی ﷺ کا مومنین پر حق (آیت 6)
یہ آیت ایمانی رشتے کی بنیاد ہے:
* جان سے زیادہ عزیز: نبی ﷺ مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان پر حق رکھتے ہیں۔
* امہات المؤمنین: نبی ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔
4. میثاقِ انبیاء (آیات 7-8)
اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کا ذکر کیا جن سے دعوتِ حق کا پختہ عہد لیا گیا تھا، جن میں حضرت محمد ﷺ، حضرت نوح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت عیسیٰ (ع) شامل ہیں۔
5. غزوہ احزاب (خندق) کا تذکرہ (آیات 9-20)
ان آیات میں اس کٹھن وقت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جب تمام دشمن قبائل نے متحد ہو کر مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا:
* آزمائش کا وقت: جب دشمن اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے تھے اور مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔
* منافقین کا رویہ: منافقین یہ کہہ کر بھاگ رہے تھے کہ "ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں" حالانکہ وہ صرف میدانِ جنگ سے فرار چاہتے تھے۔
* اللہ کی نصرت: اللہ نے تند و تیز ہوا اور فرشتوں کے لشکر بھیج کر مسلمانوں کی مدد فرمائی اور دشمن کو ناکام لوٹا دیا۔
6. اسوہ حسنہ (آیت 21)
غزوہ احزاب کی اس سختی کے ذکر کے دوران اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم اصول بیان فرمایا جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے:
> "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"
> "یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول (ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔"
>
7. سچے مومنوں کا حال (آیات 22-27)
* ایمان میں اضافہ: جب سچے مومنوں نے دشمن کے لشکروں کو دیکھا تو ان کا ایمان اور پختہ ہو گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے۔
* عہد کی سچائی: کچھ ایسے مردِ حق بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد (شہادت یا فتح) پورا کر دکھایا۔
8. ازواجِ مطہرات کی آزمائش اور مقام (آیات 28-30)
ان آیات میں نبی ﷺ کی بیویوں (امہات المؤمنین) کو مخاطب کیا گیا ہے:
* اختیار: اگر انہیں دنیا کی زینت اور مال و متاع چاہیے تو وہ علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں، لیکن اگر انہیں اللہ، اس کا رسول اور آخرت مطلوب ہے تو اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر رکھا ہے۔
* ذمہ داری: چونکہ ان کا مقام بلند ہے، اس لیے ان کی ذمہ داری بھی بڑی ہے۔ اگر وہ تقویٰ اختیار کریں تو ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔
خلاصہ:
ان 30 آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی انفرادی سیرت (رسول اللہ ﷺ کی پیروی)، خاندانی اصلاح (لے پالک اور ازواج کے احکام) اور اجتماعی دفاع (غزوہ احزاب) کو یکجا بیان فرمایا ہے۔ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ اور اسوہ رسول ﷺ کی پیروی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
نیکی کے سفر میں ہمارے ساتھ جڑے رہیے اور ہمارے چینل کو فالو کریں شکریہ ۔
Advertisement
Where is it happening?
Pindora, Rawalpindi, Pakistan, Islamabad, PakistanEvent Location & Nearby Stays:
Know what’s Happening Next — before everyone else does.












